تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 17 جنوری، 2020


        :  نام کتاب : #غالب کے جعلی خطوط
                           مصنف:    #انور احمد علوی
             ناشر :    رنگِ ادب پبلیکیشنز
 صفحات :   128                         300 روپے    قیمت :     
       مبصّر :  #خورشید عالم سیّد  



انور احمد علوی میرے  پسندیدہ مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں۔ مزاح نگاری بھی شاعری کی طرح ہوتی ہے۔جیسے کسی شاعر کا اگر ایک شعر بھی پسند آجائے تو پھر وہ ہمارے ذہن میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ان کا پہلا مضمون دس بارہ سال پہلے میں نے معروف سینیئر صحافی،افسانہ نگار، مترجم اور کالم نگار معین کمالی صاحب کی کتاب،"کالم پناہ"   کے مقدمے یادیباچے کے طور پر پڑھا تھا۔ مجھے اتنا پسند آیا کہ انور احمد علوی کا نام ایک اچھے مزاح نگار کے طور پر میرے ذہن میں محفوظ ہو گیا۔  بعد از آں ایک اور کتاب، "ہم تماشہ" میں بھی ان کا لکھا دیباچہ پڑھا اور انتہائی دلچسپ پایا۔ ان کے لکھے چند اور کتابوں کے مقدمے بھی دیکھے جو ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔  ان کی پے در پے پُر مزاح اور دلچسپ مقدمہ بازی سے مجھے کچھ یقین سا ہو گیا کہ یہ سرف شگوفے کھلاتے ہیں۔مقدموں اور دیباچوں ہی میں طنزو مزاح  کے

اب ان کی تازہ کتاب،"غالب کے جعلی خطوط"  پڑھ کر اپنے اندازے کی غلطی کا احساس ہوا ہے۔  حق  یہ ہے کہ یہ ہر موضوع پر انتہائی پر مزاح اور پر مغز تحریر لکھ سکتے ہیں مگر بہ زبان ِاسد اللہ خان غالبؔ۔ایک اور بات جو اس کتاب سے آشکار ہوئی وہ یہ کہ اچھے مقدمے صرف لکھتے ہی نہیں بلکہ لکھوا بھی لیتے ہیں۔ ان کی دیگر کتابوں کے نام بھی معلوم ہوئے، یعنی," جملہ حقوق غیر محفوظ"،  "مس گائیڈ"،"  سود کے تعاقب میں " اور،" غالبؔ کا دستر خوان(پیروڈی خطوط غالب)" جس پر لکھا عزیزی جبرانؔ انصاری کا مضمون بہت متاثر کن ہے کیونکہ صاحبِ مضمون نے اپنی ماہرانہ رائے کے ساتھ ساتھ کتابِ مذکور سے انتخاب بھی لاجواب کیاہے۔  غالب کی نظم و نثر پر تحریر کردہ سید معراج جامی ؔکا عالمانہ مضمون بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے مولانا عبد الباری آسی کو شاعری میں اور انور احمدعلوی کو نثر میں اسد اللہ خاں غالبؔ کا ہم پلہ اورمتبادل قرار دیا ہے۔ آسیؔ کا تو پتہ نہیں لیکن "غالبؔ کے جعلی خطوط" ہمیں غالبؔ کے اصلی خطوط سے زیادہ اچھے لگے کیونکہ مرزا تفتہ، میر مہدی مجروح، منشی شیو نرائن اور مرزا علاؤالدین خاں سے ہمیں کیا لینا دینا۔  البتہ ان خطوط میں بقول شاعر، " کیا  انجانے، کیا بیگانے، سب جانے پہچانے ہیں۔

علوی صاحب نے ایک سہ ماہی, " مزاح پلس" بھی جاری کیا تھا جس میں کئی سال تک طنزو مزاح کی بہترین تحریریں جمع کرکے شائع کرتے رہے۔ اسی سبب سے، اور کچھ ان کی ریش مبارک کی وجہ سے لوگ انہیں مزاح جمع کرنے والے مولوی صاحب بھی کہنے لگے۔ ۔حالانکہ ان کی شکل و شباہت کسی مولوی کی بہ نسبت جارج برنارڈ شا سے زیادہ ملتی ہے۔  اتنا اچھا لکھنے اور مشہور و معروف ہونے کے باوجود  انہیں یہ وہم ہے کہ انہیں کوئی نہیں جانتا سوائے اہلیہ کے، کیونکہ وہ اکثر کہتی رہتی ہیں کہ میں اب آپ کو اچھی طرح جان گئی ہوں۔ بقول خود ان کے، مقروض ہونے کے باوجود،  شمار  اہلِ ثروت میں ہوتا ہے کیونکہ اہلیہ کا نام، ' ثروت' ہے۔  اپنے خود نوشت سوانحی خاکے میں لکھتے ہیں کہ،  "ادبی قدو قامت میں اضافہ یوں نہ ہوسکا کہ ہماری پہلی کتاب تینتالیس (43)برس کی عمر میں شائع ہوئی۔۔۔ اورقد بڑھنا اٹھارہ سال کی عمر میں رک جاتا ہے"۔


  اور آخر میں "غالبؔ کے جعلی خطوط"سے چند اقتباسات
  "تمہارا روانہ کردہ 'نعتیہ ہائیکو' کا مجموعہ یہاں پہنچتا  ہے۔کتابت کی غلطیاں جا بجا ہیں۔ ٹائٹل اندھا ہے۔ کتاب کا نام کیا ہے اور کہاں کو لکھا ہے؟، پہلی نظر میں پتا نہیں چلتا۔  تم سونچ رہے ہوگے، مفت میں کتاب بھیج کر اتنی باتیں سننے کو ملیں۔ لو چند خوبیاں بھی سن لو۔ کتاب کی اشاعت سے مجھ سے ناواقف جو آج تلک ہائیکو کو ہائیکورٹ کا مخفف سمجھتے رہے، اِس نئی صنفِ سخن سے آشنا ہو گئے"۔
لو اب روداد میرے ایک شاگرد کی سنو جو جو ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہے۔ یہ عہدہ  بادشاہ سلامت کے توسط سے میں نے اسے دلوایا تھا۔بے روزگار تھا تو فقیر سے ملنے  بلی ماراں آجایا کرتا تھا۔ ملازمت مل گئی تو دماغ اُس کا چل گیا۔اگلے دنوں باہر جاتے ہوئے شہر میں رکا۔یاد میری ستائی تو فون گھمایا۔ کہنے لگا،"  مرزامیں دوروز کے واسطے دلی آیا ہوں۔ امریکا کا قصد ہے۔فلاں ہوٹل میں قیام ہے۔ آکرمجھ سے مل لو۔ بہادر شاہ ظفر کو بھی ہمراہ لے آنا۔
ملتان میں مقیم ممتاز مزاح نگار اقبال ساغرؔ صدیقی کے اصلی خط کے جواب میں جو غالب کو بہ توسط انور احمد علوی ارسال  کیا گیا تھا,  لکھتے ہیں  گلدستہءِ احباب کی بندش کی گیاہ، اقبال ساغر صدیقی کوغالبؔ کا سلام پہنچے! بھائی اپنے رشتہ داروں کی جانب سے جی برا نہ کیا کرو۔ خط تمہارا انہوں نے سپردِ ڈاک کردیا تھا، سپردِ خاک کردیتے تو تم ان کا کیا بگاڑ لیتے؟ تمہارا مکتوب مجھ کو مل گیا تھا مگر میں کہ سرتال سے بے بہرہ، تمہارے لڑکے کا نام  'نشید' کی بجائے' رشید 'پڑھا کیے اور خط لکھ کر لفافہ پر میجر رشید کا نام لکھا اور روانہ کر ڈالا، جو ظاہر ہے کسی نہ کسی میجر رشید کو مل گیا ہوگا۔  تم نے بھی تو یہی کیا تھا، سرنامہ میرے نام  تھا، نفسِ مضمون میاں جامیؔ کے نام اور تعریفیں شاینہ فلک کی۔  یہ میں نے ان کو نہ بتلایا کہ ناحق خوش ہوں گے"
 "کرانچی بندر کا کیا کہنا!  ایسا شہر کہاں پیدا ہوتا ہے۔ سرکاری ملازم ہوتا تو بدلی کرا کر وہیں رہ جاتا، ادِھر کو نہ آتا۔ تیسری عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کی غرض سے وہاں جانا ہوا جو میرؔ کی صد سالہ برسی سے منسوب تھی۔  کانفرنس کے اغراض و مقاصد بتلاتے ہوئے چیئرمین بہادر نے نوید سنائی،" ان کی خواہش ہے ادب کے میدان میں نوجوانوں کو آگے لایاجائے"۔ فقیر خوش ہوا اب حالیؔ، تفتہؔ اور داغؔ بلائے جاویں گے۔ مگر چند لمحوں بعد ۰۷ سے ۴۹ برس تلک کے سفید بالوں والے نوجوان اسٹیج پر براجمان ہونا شروع ہوئے۔ اس جتھے کو' مجلسِ صدارت' کا نام دیا گیا۔ان کے بعد ہندوستانی نقاد میاں شمس الرحمٰن فاروقی نے ٹیلیفون پر حاضرین سے خطاب کیا اور اپنے مضمون میں میرؔ کو مجھ سے بڑا شاعر بتلایا۔  میری تقریب ہوتی تو مجھ کو میرؔ سے بڑا شاعر بتلاتے۔ ویسے میرؔ مجھ سے بڑا ہی تھا۔۔۔۔عمر میں "۔

  "کیا بتاؤں کس حال میں ہوں۔ بی بی بیمار۔ میاں بے کار۔ دونوں ہر دم بر سرِ پیکار۔ صاحب! یہ دن بھی دیکھنا  تھے۔ پنشن میرا کیا بند ہوا۔ مرزا سے مرزائی بن گیا۔ سوشل بائیکاٹ میرا شروع ہو گیا۔ لڑکے بالے آتا جاتا دیکھ کر موضوع گفتگو کا بدل لیتے ہیں یا دو منٹ کی خاموشی  اختیار کر لیتے ہیں۔ گویا میرا سوگ منا رہے ہوں۔ پہلے بچے بتلا کر گھر چھوڑا کرتے تھے۔ اب بی بی بغیر بتلائے نکل جاتی ہے۔ یہ تو تب ہے، مال کے واسطے آل کا محتاج نہیں۔ وگرنہ مآل اِس سے بھی بدتر ہوتا۔ تم نے اچھا کیا ریٹائرمنٹ لینے سے قبل رسالہ نکالنا شروع کر دیا۔ اپنے خرچ پر سہی، کام سے لگ گئے۔ وگرنہ مثل 
اوروں کے ملازمت ختم ہونے کے بعد 'ہاؤس جاب' کرتے"۔

"ایک خاتون تلک حال میرا پہنچا۔فون اُس نے مجھ کو کیا۔خیریت میری دریافت کی اور تسلی مجھ کو دی۔ کہنے لگی، مرزا کچھ تردّد نہ کرو۔فقر و دانش کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ہر چند تم 'مقامی' ہو۔ ادب میں تمہارا 'مقام' ہے پہ بے کاری قدر کو کھا جاتی ہے۔جملہ بازی و جملہ سازی کا دور ختم ہوا۔  لوگ اب طنز و مزاح نہیں سمجھتے۔ تم خط لکھنا ترک کرو اور دفتر میں میرے آکر بیٹھ رہو۔ شاعری میں میرے غزل پسند ہے۔ جو تم اچھی بنا لیتے ہو۔جب بندی کے ذہن میں کوئی خیال آوے گا۔ نثر میں تم کو بتلا دے گی۔شعر میں تم اُس کو ڈھال دینا۔ دو موسیقار ایک دھن بنا سکتے ہیں۔ دو شاعر ایک شعر کیوں نہیں بنا سکتے۔ قرض تمہارا اتر جاوے گا۔ ہاتھ تمہارا کھل جاوے گا۔ دن بھر بی بی کی صورت دیکھنے سے بچ رہو گے۔ شام کو نقد کی صورت میں اجر پاؤ گے۔ تم نے  پوئٹ(Poet) بن کے دیکھ لیا اب کو۔پوئٹ(Co-Poet) بھی بن کے دیکھ لو۔ زنانہ خیال۔ مردانہ زبان۔ اردو شاعری کو ایک درمیانی جہت مل جاوے گی۔ منظور ہو تو مجھ کو بتلاؤ۔ یہ سونچ کر کہیں خواجہ سرا نہ بن جاؤں، چپکا ہو رہا۔ یوں بھی شاعری میں مقصدیت کا قائل نہیں "۔

" اب آخر میں دو امروں کی وضاحت تم سے طلب ہے۔ ایک تو یہ معلوم کرکے بتلاؤ ندا فاضلی شاعر ہیں یا شاعرہ؟ اگر شاعرہ ہوں تو میرا چلتا پھرتا لمبر جس کو تم موبائل کہتے ہو اُن کو دے دینا۔ وہ جب چاہیں فقیر سے خدمتِ اصلاح لے سکتی ہیں۔ یہ اِس واسطے پوچھا کہ کئی سال ہوئے کرانچی بندر سے کسی' صبا' کے یہاں پہنچنے کی اطلاع پائی۔ فقیر سج دھج کر اُن سے ملنے گیا تو وہ میری ہم جنس نکلی"۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????